حدیث نمبر: 4405
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تَنْبُتْ ، فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4405
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4404)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9904) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4405]
فوائد ومسائل:
1) زیرناف کے بال آگ آنا بلوغت کی علامت ہے۔

2) شرعی ضرورت کے لئے کسی کےزیرناف دیکھ لینا جائزہے، بلا ضرورت شرعی ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4405 سے ماخوذ ہے۔