سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي الْغُلاَمِ يُصِيبُ الْحَدَّ باب: نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ ، قَالَ : " كُنْتُ مِنْ سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ` بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے ، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4404]
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4404]
فوائد ومسائل:
بنو قریظہ یہودی قبیلہ مدینہ کے اطراف میں آباد تھا اور میثاق مدینہ کی روسے یثرب کے دفاع کا ذمہ دار اور پابند تھا، مگر جنگ خندق کے موقع پر انہوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قریش مکہ کا ساتھ دیا اور شریک جنگ ہوگیا۔
مسلمانوں کے لئے یہ موقع کڑی آزمائش کا تھا، مگر اللہ تعالی نے نسرت فرمائی اور سب ذلیل خوار ہوکر پسپا ہوگئے۔
بعد ازاں مسلمانوں نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا تو یہ لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے۔
انہوں نےفیصلہ دیا کہ بڑے مردوں اوربالغوں کوقتل کردیا جائے۔
عورتوں اور بالغ بچوں کو غلام لونڈی بنا لیا جائے۔
(تفصیل کےلئے دیکھیے الرحيق المختوم)
بنو قریظہ یہودی قبیلہ مدینہ کے اطراف میں آباد تھا اور میثاق مدینہ کی روسے یثرب کے دفاع کا ذمہ دار اور پابند تھا، مگر جنگ خندق کے موقع پر انہوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قریش مکہ کا ساتھ دیا اور شریک جنگ ہوگیا۔
مسلمانوں کے لئے یہ موقع کڑی آزمائش کا تھا، مگر اللہ تعالی نے نسرت فرمائی اور سب ذلیل خوار ہوکر پسپا ہوگئے۔
بعد ازاں مسلمانوں نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا تو یہ لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے۔
انہوں نےفیصلہ دیا کہ بڑے مردوں اوربالغوں کوقتل کردیا جائے۔
عورتوں اور بالغ بچوں کو غلام لونڈی بنا لیا جائے۔
(تفصیل کےلئے دیکھیے الرحيق المختوم)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4404 سے ماخوذ ہے۔