حدیث نمبر: 4403
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِيهِ وَالْخَرِفِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے ، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور اس میں ” کھوسٹ بوڑھے “ کا اضافہ ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند منقطع, أبو الضحي لم يدرك عليًا رضي اللّٰه عنه, وصح موقوفًا كما تقدم (4400), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10277)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/116، 140) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4402 | سنن ابن ماجه: 2042

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے۔‏‏‏‏" ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں " کھوسٹ بوڑھے " کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4403]
فوائد ومسائل:
بڑی عمر کا سٹھایا ہوا آدمی جو اپنے عقل وشعورمیں نہ ہو، اس کا بھی یہی حکم ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4403 سے ماخوذ ہے۔