سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، قَالَ هَنَّادٌ الْجَنْبيُّ ، قَالَ : " أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَمَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَهَا ، فَخَلَّى سَبِيلَهَا فَأُخْبِرَ عُمَرُ ، قَالَ : ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ ، وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلَانٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلَائِهَا قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لَا أَدْرِي ، فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَنَا لَا أَدْرِي " .
´ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا ، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : امیر المؤمنین ! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے : بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے “ اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے ، فلاں قوم کی ہے ، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی ، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے۔" ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں " کھوسٹ بوڑھے " کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4403]
بڑی عمر کا سٹھایا ہوا آدمی جو اپنے عقل وشعورمیں نہ ہو، اس کا بھی یہی حکم ہے۔
واللہ اعلم