سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي الْقَطْعِ فِي الْعَارِيَةِ إِذَا جُحِدَتْ باب: منگنی (مانگے کی چیز) لے کر کوئی مکر جائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ مَخْلَدٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَوْ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ زَادَ فِيهِ : وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ : هَلْ مِنَ امْرَأَةٍ تَائِبَةٍ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَتِلْكَ شَاهِدَةٌ ، فَلَمْ تَقُمْ وَلَمْ تَتَكَلَّمْ وَرَوَاهُ ابْنُ غَنَجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ فِيهِ فَشَهِدَ عَلَيْهَا .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی ( مانگ کر ) لے کر مکر جایا کرتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے جویریہ نے نافع سے ، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے ، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے ، اور آپ نے تین بار فرمایا : ” کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے ؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی “ ۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے ، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت لوگوں کے زیورات مانگ لیتی پھر اسے رکھ لیتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس عورت کو اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرنی چاہیئے، اور جو کچھ لیتی ہے اسے لوگوں کو لوٹا دینا چاہیئے “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بلال کھڑے ہو اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کاٹ دو۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4893]