سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب الْقَطْعِ فِي الْخُلْسَةِ وَالْخِيَانَةِ باب: کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4393
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، زَادَ وَلَا عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَانِ الْحَدِيثَانِ لَمْ يَسْمَعْهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّمَا سَمِعَهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مَنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَدْ رَوَاهُمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں` اس میں اتنا اضافہ ہے ” اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔`
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے ” اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4393]
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے ” اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4393]
فوائد ومسائل:
لیٹرا وہ ہوتا ہے جو قوت یا اسلحہ کے طور پر مال چھین لے جائے اور اچکا وہ ہوتا ہے جو بڑی تیزی اور ہشیاری سے کسی کا مال لے اڑے اور خائن اسے کہتے ہیں جو حفاظت کے لئےدیے گئے مال سے انکاری ہوجائے۔
ان پر چوری کی تعریف ثابت نہیں ہوتی۔
چور وہ ہوتا ہے جو پوشیدہ چھپ کر خاص محفوظ مقام سے کسی غیر کا مال نکل جائے۔
مذکورہ جرائم میں بلاشبہ دیگرسزائیں لازم آتی ہیں، لیکن ہاتھ نہیں کٹتا۔
لیٹرا وہ ہوتا ہے جو قوت یا اسلحہ کے طور پر مال چھین لے جائے اور اچکا وہ ہوتا ہے جو بڑی تیزی اور ہشیاری سے کسی کا مال لے اڑے اور خائن اسے کہتے ہیں جو حفاظت کے لئےدیے گئے مال سے انکاری ہوجائے۔
ان پر چوری کی تعریف ثابت نہیں ہوتی۔
چور وہ ہوتا ہے جو پوشیدہ چھپ کر خاص محفوظ مقام سے کسی غیر کا مال نکل جائے۔
مذکورہ جرائم میں بلاشبہ دیگرسزائیں لازم آتی ہیں، لیکن ہاتھ نہیں کٹتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4393 سے ماخوذ ہے۔