سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي الاِمْتِحَانِ بِالضَّرْبِ باب: جرم کی تفتیش میں مجرم کو مارنا پیٹنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ " أَنَّ قَوْمًا مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ ، فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ ، فَأَتَوْا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْا النُّعْمَانَ ، فَقَالُوا : خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلَا امْتِحَانٍ ، فَقَالَ النُّعْمَانُ : مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ ، فَقَالُوا : هَذَا حُكْمُكَ ، فَقَالَ : هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَيْ لَا يَجِبُ الضَّرْبُ إِلَّا بَعْدَ الِاعْتِرَافِ .
´ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ` کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے ، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا ، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا ، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں ، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا ، تو انہوں نے پوچھا : یہ آپ کا فیصلہ ہے ؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا ، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا، تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4382]
کسی ملزم یا متہم کو تحقیق کی غرض سے مارنا پیٹنا فقہاء کے نزدیک اختلافی مسئلہ ہے۔
احناف اور شوافع اس کا انکار کرتے ہیں، ممکن ہےکہ یہ شخص حقیقتًا بری الذمہ ہوتوسزا دینا ظلم ہوگا، البتہ مالکیہ اسے جائزکہتے ہیں۔
بہرحال قاضی یا حاکم کو چاہئےکہ احوال وظروف کی روشنی میں تحقیق کرے، جیسے کہ غزوہ بدر میں صحابہ رضی اللہ عنہ نے قریش کے غلام کو مارا اور اس سے خبر اگلوانے کی کوشش کی تھی۔
(صحيح مسلم، الجهاد، باب غزوة بدر، حديث:١٧٧٩)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس قبیلہ کلاع کے کچھ لوگ مقدمہ لائے کہ کچھ بنکروں نے سامان چرا لیا ہے، انہوں نے کچھ دنوں تک ان کو قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: آپ نے انہیں کوئی تکلیف پہنچائے اور مارے بغیر چھوڑ دیا؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کہو تو ان کو ماروں؟ اگر ان کے پاس تمہارا مال نکل آیا تو بہتر ہے ورنہ اسی قدر میں تمہاری پیٹھ پر ماروں گا؟ وہ بولے: کیا ی [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4878]
(2) اس باب میں چور سے مراد وہ شخص ہے جس پر چوری کا الزام ہو مگر کوئی گواہ نہ ہو اور نہ مال مسروقہ اس سے برآمد ہوا ہو۔ ایسے شخص کو جس پر چور ہونے کے قرائن ہوں تحقیق کی غرض سے قید کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ تسلیم کر لے یا اس سے مال مسروقہ برآمد ہو جائے تو اس کو چوری کی سزا لازم ہے۔ اگر کچھ بھی ثابت نہ ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے گا جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے نیز اسے مارنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ مارپیٹ سے تو کسی بھی بے گناہ سے اعتراف کروایا جاسکتا ہے۔ کسی بے گناہ یا مشکوک شخص کو مارنا ظلم ہے۔ ہاں البتہ یہ درست ہے کہ دانائی اور حکمت سے سچ اگلوایا جائے یا دھمکیوں وغیرہ سے مرعوب کر کے حقیقت معلوم کی جائے۔