سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي الرَّجُلِ يَعْتَرِفُ بِحَدٍّ وَلاَ يُسَمِّيهِ باب: آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4381
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، قَالَ : تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ عَفَا عَنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
فوائد ومسائل:
1) جرم کی صراحت کے بغیر کسی حد کا اقرار کرنے سے کوئی حدلاگو نہیں ہوسکتی۔
2) جب کسی کے دل میں ایمان جاگزیں ہوجاتا ہے اور اسے اپنی آخرت کی فکر ہوتی ہے تو وہ ہر طرح کی کوشش کرتا ہے کہ اس دنیا سے پاک صاف ہوکراللہ کے حضور پیش ہو۔
3) وضو نماز باجماعت اور ہرطرح کے اعمال صالحہ انسان کی چھوٹی موٹی تفصیرات کا کفارہ بنتے رہتے ہیں۔
1) جرم کی صراحت کے بغیر کسی حد کا اقرار کرنے سے کوئی حدلاگو نہیں ہوسکتی۔
2) جب کسی کے دل میں ایمان جاگزیں ہوجاتا ہے اور اسے اپنی آخرت کی فکر ہوتی ہے تو وہ ہر طرح کی کوشش کرتا ہے کہ اس دنیا سے پاک صاف ہوکراللہ کے حضور پیش ہو۔
3) وضو نماز باجماعت اور ہرطرح کے اعمال صالحہ انسان کی چھوٹی موٹی تفصیرات کا کفارہ بنتے رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4381 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2765 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فر تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران اچانک ایک آدمی آیا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں قابل حد گناہ کا مرتکب ہوا ہوں، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کی، اس نے اپنی بات کا پھر اعادہ کیا اور کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7007]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: روایات سے مجموعی طور پر یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہاں سے حد سے مراد گناہ ہی ہے، جس کو اس نے اپنی ایمانی پختگی کی وجہ سے بڑا خیال کیا اور آپ نے فرمایا، "وضو اور نماز میں، ایک مسلمان جو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے، وضو کے بعد اللهم اغفرلی کہتا ہے تو یہی دعا اس کے لیے بخشش کا باعث بن جاتی ہے، کیونکہ یہ دعائیں اگر شعور و احساس کے ساتھ، معنی پر نظر رکھتے ہوئے پڑھی جائیں تو یہ توبہ پر مشتمل ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2765 سے ماخوذ ہے۔