حدیث نمبر: 4375
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ نَسَبَهُ جَعْفَرٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3569)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17912)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 6/181) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 1076

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شرعی حدود کو ختم کرنے کے لیے سفارش نہیں کی جا سکتی۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4375]
فوائد ومسائل:
شرعی حدود بلااستثنا عام وخاص سب پر لاگو ہوتی ہیں۔
اس سے کم درجہ کی غلطیاں اگر غفلت سے یا پہلی بار سرزد ہوں اور قاضی یا منتظمین محسوس کریں کہ زبانی تنبیہ ہی کافی ہے تو انہیں معاف کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی عادی مجرم ہو یا اس کے معاملے سے محسوس ہو کہ وہ اپنے عمل پر کوئی عار محسوس نہیں کر رہا ہے تو سزا دینی چاہئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4375 سے ماخوذ ہے۔