حدیث نمبر: 4370
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَطَّعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ عَاتَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالزناد سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان لوگوں کے ( ہاتھ پاؤں ) کاٹے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سلسلہ میں عتاب فرمایا : اور آیت محاربہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا» ” جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی پر چڑھا دئیے جائیں ( سورۃ المائدہ : ۳۳ ) اخیر تک نازل فرمائی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4047), السند مرسل وابن عجلان عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
تخریج حدیث « سنن النسائی/المحاربة 7 (4047)، (تحفة الأشراف: 7275، 18898) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4041 | سنن نسائي: 4044 | سنن نسائي: 4047

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4047 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔`
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4047]
اردو حاشہ: یہ روایت ضعیف ہے۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر اظہار ناراضی کے لیے نازل نہیں ہوئی بلکہ صحیح وہی ہے جو دوسری روایات میں ذکر ہو چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھیں، اس لیے پھوڑ دیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، قصاصاً ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا ہے۔ و اللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4047 سے ماخوذ ہے۔