حدیث نمبر: 4369
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبِدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ،قَالَ أَحْمَدُ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ نَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَاقُوهَا وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، قَالَ : وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ ، وَهُمُ الَّذِينَ أَخْبَرَ عَنْهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے ، اسلام سے مرتد ہو گئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا ، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا ، وہ پکڑے گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے ، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں ، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی ، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه النسائي (4046)
تخریج حدیث « سنن النسائی/المحاربة 7 (4046)، (تحفة الأشراف: 7275، 18898) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4045

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4369]
فوائد ومسائل:
حجاج بن یوسف تاریخ اسلام کا معروف ظالم حکمران ہو گزرا ہے، اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس کو یہ مذکورہ واقعہ بیان کیا، اس پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش وہ اسے یہ بیان نہ کرتے کیونکہ اسی سے اس نے اپنے لیے غلط دلیل دی۔
(صحيح البخاري، باب الدواء بألبان الإبل، حدیث:5685)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4369 سے ماخوذ ہے۔