حدیث نمبر: 4367
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَقَتَادَةُ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ` میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب ( پیاس سے تڑپ تڑپ کر ) مر گئے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4367
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه الترمذي (72 وسنده حسن) والنسائي (4039 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/ الطہارة 55 (72)، سنن النسائی/ المحاربة 7 (4039) (تحفة الأشراف: 317، 1156) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب (پیاس سے تڑپ تڑپ کر) مر گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4367]
فوائد ومسائل:
ایسے مجرموں کواذیت ناک طریقے سے مارنا ہوتا ہے اور یہ کسی ترس اور رحم کے حق دار نہیں رہتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4367 سے ماخوذ ہے۔