سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ، أَوْ نَسِيَهَا باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ مَالِكٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَابْنِ إِسْحَاقَ ، لم يذكر أحد منهم الأذان في حديث الزهري هذا ولم يسنده منهم أحد ، إلا الأوزاعي ، وأبان العطار ، عَنْ مَعْمَرٍ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو “ ، وہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ۱؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مالک ، سفیان بن عیینہ ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے ، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ۲؎ کا ذکر نہیں کیا ہے ، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے ، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے ۔
۲؎: یہی واقعہ ہشام نے حسن کے واسطے سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اس میں بھی اذان کا ذکر ہے، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی اذان اور اقامت دونوں کا ذکر ہے (اور ان دونوں کی روایتیں آگے آ رہی ہیں) یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، نیز دیگر صحابہ کرام سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اور احادیث و روایات میں ثقہ راویوں کے اضافے اور زیادات مقبول ہوتی ہیں۔