سنن ابي داود
كتاب الملاحم— کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں
باب قِيَامِ السَّاعَةِ باب: قیامت آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4350
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفُ ذَلِكَ الْيَوْمِ ؟ قَالَ : خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے “ ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے کہا : پانچ سو سال ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قیامت آنے کا بیان۔`
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے۔“ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4350]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے۔“ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4350]
فوائد ومسائل:
اس کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، ان میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ اس کا تعلق یومِ قیا مت سے ہے، یعنی اس روز اللہ تعالٰی غریبوں کو پہلے جنت میں بھیج دے گا اور مال داروں کو ان سے ملنے میں پانچ سو سال کی مدت لگ جائے گی۔
یہ بات دوسری احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔
اس کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، ان میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ اس کا تعلق یومِ قیا مت سے ہے، یعنی اس روز اللہ تعالٰی غریبوں کو پہلے جنت میں بھیج دے گا اور مال داروں کو ان سے ملنے میں پانچ سو سال کی مدت لگ جائے گی۔
یہ بات دوسری احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4350 سے ماخوذ ہے۔