سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب إِذَا أَخَّرَ الإِمَامُ الصَّلاَةَ عَنِ الْوَقْتِ باب: جب امام نماز کو دیر سے پڑھے تو کیا کرنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ ابْنِ أُخْتِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ الْمَعْنَى ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شِئْتَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ : إِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شِئْتَ " .
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کر دیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے گا ، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا “ ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اگر تم چاہو “ ۔ سفیان نے ( اپنی روایت میں ) یوں کہا ہے : ” اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ، تم ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لو اگر تم چاہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کر دیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا“، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تم چاہو۔“ سفیان نے (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: ”اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لو اگر تم چاہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 433]
➋ اس حدیث کی پہلی سند میں ایک راوی ہے ”ابن اخت (بھانجا) عبادہ بن صامت۔“ جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ اس کی بیوی کا بیٹا ہے جیسے کہ دوسری سند میں مذکور ہے۔