سنن ابي داود
كتاب الملاحم— کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں
باب فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ باب: جساسہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : " إِنَّهُ حَبَسَنِي ، حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا ، قَالَ : مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الدَّجَّالُ خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ ؟ قُلْتُ : بَلْ أَطَاعُوهُ ، قَالَ : ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ ".
´فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی ، پھر نکلے تو فرمایا : ” مجھے ایک بات نے روک لیا ، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے ، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا ، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے ، تو میں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ وہ بولی : میں جساسہ ۱؎ ہوں ، تم اس محل کی طرف جاؤ ، تو میں اس محل میں آیا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے ، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے ، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے ، میں نے اس سے پوچھا : تم کون ہو ؟ تو اس نے کہا : میں دجال ہوں ، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا ؟ میں نے کہا : ہاں ( وہ ظاہر ہو چکے ہیں ) اس نے پوچھا : لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی ؟ میں نے کہا : نہیں ، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے ، تو اس نے کہا : یہ بہتر ہے ان کے لیے “ ۔