سنن ابي داود
كتاب الملاحم— کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں
باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ باب: دجال کے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4319
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ ، فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ ، أَوْ لِمَا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ " ، هَكَذَا قَالَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی ! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے ، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہو گا تابع ہو جائے گا “ راوی کو شک ہے کہ «مما یُبعث بہ» کہا ہے یا «لما یُبعث بہ» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دجال کے نکلنے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہو گا تابع ہو جائے گا “ راوی کو شک ہے کہ «مما یُبعث بہ» کہا ہے یا «لما یُبعث بہ» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4319]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہو گا تابع ہو جائے گا “ راوی کو شک ہے کہ «مما یُبعث بہ» کہا ہے یا «لما یُبعث بہ» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4319]
فوائد ومسائل:
فتنہ پرور اور گمراہ افراد یا اس قسم کی چیزوں سے دور رہنے میں ہی امان ہے۔
تاہم اظہارِ حق اور ابطال باطل کے لیئے ایسے لوگوں کے پاس جانا حق ہے۔
لیکن سطحی قسم کے مسلمان ان کے بھرے میں آکر گمراہ ہو سکتے ہیں، لہذا ان سے دور رہنا ضروری ہے اور اپنے ایمان میں رسوخ پید ا کرنے کی بھرپورکوشش کرنی چاہیئے۔
فتنہ پرور اور گمراہ افراد یا اس قسم کی چیزوں سے دور رہنے میں ہی امان ہے۔
تاہم اظہارِ حق اور ابطال باطل کے لیئے ایسے لوگوں کے پاس جانا حق ہے۔
لیکن سطحی قسم کے مسلمان ان کے بھرے میں آکر گمراہ ہو سکتے ہیں، لہذا ان سے دور رہنا ضروری ہے اور اپنے ایمان میں رسوخ پید ا کرنے کی بھرپورکوشش کرنی چاہیئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4319 سے ماخوذ ہے۔