سنن ابي داود
كتاب الملاحم— کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں
باب أَمَارَاتِ السَّاعَةِ باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَهَنَّادٌ ، المعنى ، قَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، وَقَالَ هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ،عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا السَّاعَةَ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ تَكُونَ أَوْ لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ قَبْلَهَا عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ : خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَآخِرُ ذَلِكَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ " .
´حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے زیر سایہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ، ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک نہیں ہو گی ، یا قائم نہیں ہو گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں : سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ، دابہ ( چوپایہ ) کا ظہور ، یاجوج و ماجوج کا خروج ، ظہور دجال ، ظہور عیسیٰ بن مریم ، ظہور دخان ( دھواں ) اور تین جگہوں : مغرب ، مشرق اور جزیرہ عرب میں خسف ( دھنسنا ) اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے عدن کے گہرائی میں سے ایک آگ ظاہر ہو گی وہ ہانک کر لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
الدخان، وہ دھواں جس سے مومنوں کو زکام ہوگا اور کافروں کے لیے تباہی کا باعث ہوگا، (2)
دابة: وہ جانور جو زمین سے نکل کر لوگوں سے ہم کلام ہوگا۔
قرآن مجید میں(اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم) (النمل آیت 28)
ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جوان سے گفتگو کرے گا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث میں نشانیوں کا ذکر وقوعی ترتیب کے مطابق نہیں ہے، اس لیے نزول عیسیٰ اور یاجوج ماجوج سے پہلے مغرب سے طلوع شمس کا ذکر ہے، حالانکہ یہ طلوع وقوع قیامت کی علامت ہے۔
بروز منگل صبح کی نماز کے بعد مدینہ منورہ سے بہت بڑی آگ ظاہر ہوئی تھی، جس کی روشنی سے بصری کے اونٹوں کے گرد نیں روشن ہوگئی تھیں، (تفصیل کے لیے دیکھئے البدایہ والنہایہ ج(13)
ص 187۔
دیکھئے تکملہ ج 2 ص 310 تا 312 منتہ المنھم 4 ص 356)
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض (چوپایا)، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» (دھنسنا): ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4055]
فوائد و مسائل:
(1)
دابة الارض کی احادیث باب: 31میں، مغرب سے سورج طلوع ہونے کی احادیث، باب: 32 میں، دجال کے ظہور، حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول اور یاجوج ماجوج کے بارے میں احادیث، باب: 33 میں آرہی ہیں۔
(2)
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کا نظام ختم ہورہا ہے۔
اب قیامت کے مراحل شروع ہیں جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے، اس لیے اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوگی، جیسے موت کے وقت فرشتے نظر آجانے سے توبہ قبول نہیں ہوتی۔
(3)
دجال کا فتنہ بہت عظیم فتنہ ہے۔
وہ یہود کا لیڈر ہوگا اور مسلمانوں کی گمراہی کا باعث ہوگا۔
(4)
یہودیوں نے سچے مسیح (عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)
کا انکار کیا کیونکہ انھوں نے دنیا میں یہود کے غلبے کا وعدہ نہیں فرمایا۔
دجال کے ایام میں یہود کو وقتی طور پر ترقی اور غلبہ حاصل ہوگا۔
(5)
بعض مسلمان کہلانے والے فرقے بھی امام غائب کے ظہور کے منتظر ہیں۔
ممکن ہے دجال کے شعبدے دیکھ کر وہ بھی اسے اپنا امام تسلیم کرلیں۔
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں گی قیامت قائم نہ ہو گی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4041]
فوائد و مسائل:
یہ حدیث باب 28 میں تفصیل سے آئے گی۔ دیکھیے حدیث: 4055
علامات قیامت کا فی زیادہ ہیں اس حدیث میں بڑی بڑی علامات کا ذکر ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ علامات برحق ہیں۔ ان علامات پر بہت سی کتب لکھی گئی۔ ہیں ایک کتاب یہ ہے ”جب دنیا ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔ “ ہر ہر نشانی کی تفصیل اس کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔