حدیث نمبر: 4308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحِ بْنِ دِرْهَمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ فَإِذَا رَجُلٌ فَقَالَ لَنَا : إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا الْأُبُلَّةُ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولَ : هَذِهِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ خَلِيلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صالح بن درہم کہتے ہیں کہ` ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ۱؎ جس نے ہم سے پوچھا : کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو ؟ ہم نے کہا : ہاں ، ہے ، پھر اس نے کہا : تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے ؟ اور کہے : اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ہم پلہ نہ ہوں گے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مسجد نہر ۲؎ کے متصل ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے مراد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس سے مراد نہر فرات ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إبراهيم بن صالح ضعفه الدار قطني والجمهور وقال الحافظ ابن حجر : فيه ضعف (تق: 186), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13501) (ضعیف) »