حدیث نمبر: 4307
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْحَنَّاطُ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ذَكَرَهُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا أَنَسُ إِنَّ النَّاسَ يُمَصِّرُونَ أَمْصَارًا وَإِنَّ مِصْرًا مِنْهَا يُقَالُ لَهُ : الْبَصْرَةُ أَوْ الْبُصَيْرَةُ فَإِنْ أَنْتَ مَرَرْتَ بِهَا أَوْ دَخَلْتَهَا فَإِيَّاكَ وَسِبَاخَهَا وَكِلَاءَهَا وَسُوقَهَا وَبَابَ أُمَرَائِهَا وَعَلَيْكَ بِضَوَاحِيهَا فَإِنَّهُ يَكُونُ بِهَا خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَرَجْفٌ وَقَوْمٌ يَبِيتُونَ يُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِير " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` لوگ شہر بسائیں گے انہیں شہروں میں سے ایک شہر ہو گا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہو گا ، اگر تم اس سے گزرنا یا اس میں داخل ہونا تو اس کی سب شور زمین اس کی کلاء ۱؎ اس کے بازار اور اس کے امراء کے دروازوں سے اپنے آپ کو بچانا ، اور اپنے آپ کو اس کے اطراف ہی میں رکھنا ، کیونکہ اس میں «خسف» ( زمینوں کا دھنسنا ) «قذف» ( پتھر برسنا ) اور «رجف» ( زلزلہ ) ہو گا ، اور کچھ لوگ رات صحیح سالم ہو کر گزاریں گے ، اور صبح کو بندر اور سور ہو کر اٹھیں گے ۔

وضاحت:
۱؎: بصرہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الراوي شك في اتصاله فالسند معلل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1616) (صحیح) »