حدیث نمبر: 4306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَنْزِلُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي بِغَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ عِنْدَ نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ : دِجْلَةُ يَكُونُ عَلَيْهِ جِسْرٌ يَكْثُرُ أَهْلُهَا وَتَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُهَاجِرِينَ " ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى : قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ : وَتَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَطِّ النَّهْرِ ، فَيَتَفَرَّقُ أَهْلُهَا ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَالْبَرِّيَّةِ وَهَلَكُوا ، وَفِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَكَفَرُوا ، وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے کچھ لوگ دجلہ نامی ایک نہر کے قریب کے ایک نشیبی زمین پر اتریں گے جسے وہ لوگ بصرہ کہتے ہوں گے ، اس پر ایک پل ہو گا ، وہاں کے لوگ ( تعداد میں ) دیگر شہروں کے بالمقابل زیادہ ہوں گے ، اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہو گا ( ابومعمر کی روایت میں ہے کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا ) ، پھر جب آخری زمانہ ہو گا تو وہاں قنطورہ ۱؎ کی اولاد ( اہل بصرہ کے قتل کے لیے ) آئیگی جن کے چہرے چوڑے ، اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے ، پھر تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ، ایک گروہ تو بیل کی دم ، اور صحرا کو اختیار کر کے ہلاک ہو جائے گا ، اور ایک گروہ اپنی جانوں کو بچا کر کافر ہو جانے کو قبول کر لے گا ، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چھوڑ کر نکل کھڑا ہو گا ، اور ان سے لڑے گا یہی لوگ شہداء ہوں گے “ ۔

وضاحت:
۱؎: ترکوں کے جد اعلیٰ کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (5432)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11704)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 5/40، 45) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بصرہ کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ دجلہ نامی ایک نہر کے قریب کے ایک نشیبی زمین پر اتریں گے جسے وہ لوگ بصرہ کہتے ہوں گے، اس پر ایک پل ہو گا، وہاں کے لوگ (تعداد میں) دیگر شہروں کے بالمقابل زیادہ ہوں گے، اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہو گا (ابومعمر کی روایت میں ہے کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا)، پھر جب آخری زمانہ ہو گا تو وہاں قنطورہ ۱؎ کی اولاد (اہل بصرہ کے قتل کے لیے) آئیگی جن کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے، پھر تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4306]
فوائد ومسائل:
1) خلافتِ عباسیہ کے آخری خلیفہ معتصم بااللہ (صفر656 ہجری) کے دور میں یہ واقعات ظہور پذید ہو چکیں ہیں۔

2) جب کفار مسلمانوں پر ہجوم کر آئیں تو جہاد فرض ہو جاتا ہے۔
پھر اس سے فرار ہلاکت اور کفار کی پناہ میں آنا کفر ہے۔
اور نجات اس کے لیئے جو اس موقع پر اپنی جان کی بازی لگا دے۔

3) حدیث میں وارد علامت بغداد پر منطبق ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4306 سے ماخوذ ہے۔