حدیث نمبر: 4303
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْإِسْكَنْدَرَانِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہو گی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے ، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2912)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الفتن 18 (2912)، سنن النسائی/الجہاد 42 (3179)، سنن ابن ماجہ/الفتن 36 (4096)، (تحفة الأشراف: 12766)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 95 (2928)، 96 (2929)، المناقب 25 (3590)، مسند احمد ( 2 /239، 271، 300، 319، 338، 475، 493، 530) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کافر ترکوں سے لڑنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہو گی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4303]
فوائد ومسائل:
فائدہ ترکوں کے چہرے پُر گوشت گول اور چوڑے ہوتے ہیں۔
اس لیئے انہیں چمڑے منڈھی ڈھالوں سے تشبہہ دی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4303 سے ماخوذ ہے۔