حدیث نمبر: 4302
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ ایک جنگی تدبیر تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بتلائی کہ یہ کافر اقوام جب تک مسلمانوں کے خلاف اقدام نہ کریں، مسلمانوں کو بھی ان سے جنگ میں ابتداء نہ کرنی چاہئے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الملاحم / حدیث: 4302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (5430), أخرجه النسائي (3178 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الجہاد 42 (3178)، (تحفة الأشراف: 15689) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کافر ترکوں اور حبشیوں سے چھیڑ چھاڑ منع ہے۔`
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4302]
فوائد ومسائل:
مسلمانوں کی جمیعیت اگر مجتمع نہ ہو تو یہی حکم ہے (قاتِلُوا المشرکین کافَّةً) التوبة:36 پر عمل لازم ہے اور خیر القرون میں اسی پر عمل ہوا ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4302 سے ماخوذ ہے۔