سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَمَعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَهُوَ أَصْغَرُنَا ، فَوَضَعَهَا عِنْدَ السِّدْرَةِ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا ، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا ، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 270 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے: ’’کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا، جس کے پاس وضو کا برتن تھا، اور وہ ہم سب سے چھوٹا تھا، تو اس نے اسے ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا، رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کرکے ہمارے پاس تشریف لائے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:619]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
حَائِطٌ: وہ باغ جس کے گرد دیوار ہو۔
(2)
مِيضَأَةٌ: وضو کرنے کا برتن (وضو کرنے کا آلہ)
۔
: (1)
حَائِطٌ: وہ باغ جس کے گرد دیوار ہو۔
(2)
مِيضَأَةٌ: وضو کرنے کا برتن (وضو کرنے کا آلہ)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 270 سے ماخوذ ہے۔