سنن ابي داود
كتاب الملاحم— کتاب: اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں
باب فِي تَدَاعِي الأُمَمِ عَلَى الإِسْلاَمِ باب: مسلمانوں پر دوسری قوموں کی مسلسل یلغار کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا ، فَقَالَ قَائِلٌ : وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ ، فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ : حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ " .
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں “ تو ایک کہنے والے نے کہا : کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے ، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے ، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا ، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا “ تو ایک کہنے والے نے کہا : اللہ کے رسول ! «وہن» کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں “ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا “ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ دنیا کی محبت اور مو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4297]
1) اسلام اور مسلمانوں کی ہیبت اور غلبے کا راز کثرت عدد پر نہیں ہے بلکہ اللہ کے تقوے اور اس کے دین کی فی لواقع پابندی میں پو شیدہ ہے۔
2) دنیا کی محبت اور آخرت کی بے فکری بہت بڑا فتنہ ہے جو افراد بلکہ قوموں کو دنیا میں گمراہ کر کے رکھ دیتا ہے اور آخرت کی خرابی اس سے بڑھ کر ہے۔