حدیث نمبر: 4282
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فِطْرٍ ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ ، قَالَ : زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، ثُمَّ اتَّفَقُوا : حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : لَا تَذْهَبُ أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَفْظُ عُمَرَ ، وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا ، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر ، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا ، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا ، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے “ ۔ سفیان کی روایت میں ہے : ” دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المهدى / حدیث: 4282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (5452), أخرجه الترمذي (2230 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفتن 52 (2230)، (تحفة الأشراف: 9208)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/376، 377، 430، 448) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2230 | سنن ترمذي: 2231 | معجم صغير للطبراني: 762