حدیث نمبر: 4280
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ، قَالَ : فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا ، ثُمَّ قَالَ : كَلِمَةً خَفِيفَةً ، قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ مَا قَالَ : قَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا “ لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا ، اور ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : ابا جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ؟ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” یہ سب قریش میں سے ہوں گے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7223 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7223. سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں بارہ امیر ہوں گے۔“ پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جو میں نہ سن سکا۔ بعد میں میرے والد گرامی نے بتایا کہ آپ نے فرمایا تھا: ”وہ سب کے سب قریش کے خاندان سے ہوں گے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7223]
حدیث حاشیہ: دوسری روایت میں ہے یہ دین برابر عزت سے رہے گا، بارہ خلیفوں کے زمانہ تک۔
ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ یہ دین برابر قائم رہے گا، یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفے ہوں گے اور سب پر اتفاق کرے گی۔
یہ بارہ خلیفے آنحضرتﷺ کی امت میں گزر چکے ہیں۔
حضرت صدیق سے لے کر عبدالعزیز تک چودہ شخص حاکم ہوئے ہیں۔
ان میں سے دو کا زمانہ بہت قلیل رہا۔
ایک معاویہ بن یزید، دوسرے مروان کا۔
ان کو نکال ڈالو تو وہی بارہ خلیفہ ہوتے ہیں جنہوں نے بہت زور شور کے ساتھ خلافت کی۔
عمر بن عبدالعزیز کے بعد پھر زمانہ کا رنگ بدل گیا اور حضرت حسن اور عبداللہ بن زبیر پر گو سب لوگ جمع نہیں ہوئے تھے مگر اکثر لوگ تو پہلے جمع ہوگئے اس لیے ان دونوں صاحبوں کی بھی خلافت حق اور صحیح ہے۔
امامیہ نے اس حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ بارہ امام مراد ہیں یعنی حضرت علی سے لے کر جناب محمد بن حسن مہدی تک مگر اس میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت حسن کے بعد پھر کسی امام پر لوگ جمع نہیں ہوئے نہ ان کو شوکت اور حکومت حاصل ہوئی بلکہ اکثر جان کے ڈر سے چھپے رہے تو یہ لوگ اس حدیث سے کیسےمراد ہوسکتے ہیں۔
واللہ أعلم
ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ یہ دین برابر قائم رہے گا، یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفے ہوں گے اور سب پر اتفاق کرے گی۔
یہ بارہ خلیفے آنحضرتﷺ کی امت میں گزر چکے ہیں۔
حضرت صدیق سے لے کر عبدالعزیز تک چودہ شخص حاکم ہوئے ہیں۔
ان میں سے دو کا زمانہ بہت قلیل رہا۔
ایک معاویہ بن یزید، دوسرے مروان کا۔
ان کو نکال ڈالو تو وہی بارہ خلیفہ ہوتے ہیں جنہوں نے بہت زور شور کے ساتھ خلافت کی۔
عمر بن عبدالعزیز کے بعد پھر زمانہ کا رنگ بدل گیا اور حضرت حسن اور عبداللہ بن زبیر پر گو سب لوگ جمع نہیں ہوئے تھے مگر اکثر لوگ تو پہلے جمع ہوگئے اس لیے ان دونوں صاحبوں کی بھی خلافت حق اور صحیح ہے۔
امامیہ نے اس حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ بارہ امام مراد ہیں یعنی حضرت علی سے لے کر جناب محمد بن حسن مہدی تک مگر اس میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت حسن کے بعد پھر کسی امام پر لوگ جمع نہیں ہوئے نہ ان کو شوکت اور حکومت حاصل ہوئی بلکہ اکثر جان کے ڈر سے چھپے رہے تو یہ لوگ اس حدیث سے کیسےمراد ہوسکتے ہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7223 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7223 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7223. سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں بارہ امیر ہوں گے۔“ پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جو میں نہ سن سکا۔ بعد میں میرے والد گرامی نے بتایا کہ آپ نے فرمایا تھا: ”وہ سب کے سب قریش کے خاندان سے ہوں گے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7223]
حدیث حاشیہ:
1۔
صحیح بخاری کی یہ روایت انتہائی مختصر ہے کیونکہ اس میں بارہ خلفاء کے اوصاف بیان نہیں ہوئے، صرف یہی ذکر ہوا ہے کہ وہ خاندان قریش سے ہوں گے۔
دیگر روایات سے پتا چلتا ہے کہ ان کے دورامارت میں اسلام خوب پھلے پھولے گا اور اسے غلبہ ہوگا اور اس کے ماننے والوں کی مخالفت ہوگی لیکن انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
(صحیح مسلم، الأمارة، حدیث: 4708(1821)
اس حدیث میں دو باتیں مزید بیان کی جاتی ہیں جو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں:۔
ان خلفاء پر امت کا اتفاق ہوگا۔
۔
ان کے بعد قتل وغارت ہوگا جیسا کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق تفصیل سے لکھاہے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 376)
2۔
ان خلفاء کی تعین کے متعلق بہت اختلاف ہے، اس لیے ہم نے دانستہ اس سے پہلوتہی کی ہے، البتہ شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ ان سے مراد ان کے مزعومہ بارہ امام ہیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع ہوکر محمد بن حسن مہدی پر ختم ہوتے ہیں لیکن یہ اس لیےغلط ہے کہ ان کے دورحکومت میں اسلام کی کوئی شان وشوکت نہیں ملی بلکہ ان میں سے اکثر اپنی جان بچانے کے لیے چھپے رہے۔
ہمارے نزدیک شیعہ کا یہ موقف مبنی برحقیقت نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
صحیح بخاری کی یہ روایت انتہائی مختصر ہے کیونکہ اس میں بارہ خلفاء کے اوصاف بیان نہیں ہوئے، صرف یہی ذکر ہوا ہے کہ وہ خاندان قریش سے ہوں گے۔
دیگر روایات سے پتا چلتا ہے کہ ان کے دورامارت میں اسلام خوب پھلے پھولے گا اور اسے غلبہ ہوگا اور اس کے ماننے والوں کی مخالفت ہوگی لیکن انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
(صحیح مسلم، الأمارة، حدیث: 4708(1821)
اس حدیث میں دو باتیں مزید بیان کی جاتی ہیں جو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں:۔
ان خلفاء پر امت کا اتفاق ہوگا۔
۔
ان کے بعد قتل وغارت ہوگا جیسا کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق تفصیل سے لکھاہے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 376)
2۔
ان خلفاء کی تعین کے متعلق بہت اختلاف ہے، اس لیے ہم نے دانستہ اس سے پہلوتہی کی ہے، البتہ شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ ان سے مراد ان کے مزعومہ بارہ امام ہیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع ہوکر محمد بن حسن مہدی پر ختم ہوتے ہیں لیکن یہ اس لیےغلط ہے کہ ان کے دورحکومت میں اسلام کی کوئی شان وشوکت نہیں ملی بلکہ ان میں سے اکثر اپنی جان بچانے کے لیے چھپے رہے۔
ہمارے نزدیک شیعہ کا یہ موقف مبنی برحقیقت نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7223 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1821 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ’’یہ دین غالب اور محفوظ رہے گا، یہاں تک کہ بارہ خلیفہ ہو جائیں گے۔‘‘ اور آپ نے ایک بات کہی، جو لوگوں (کے شور) نے مجھے سننے نہیں دی، تو میں نے اپنے باپ سے پوچھا، آپ نے کیا فرمایا؟ اس نے کہا، آپﷺ نے فرمایا: ’’سب قریش میں سے ہوں گے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4710]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مَنِيعً: قوت وزوروالا، محفوظ۔
(2)
صَمَّنِيهَا النَّاسُ: لوگوں نے مجھے اس سے بہرہ کردیا، یعنی لوگوں کے شور کی وجہ سے میں اسے سن نہ سکا۔
(1)
مَنِيعً: قوت وزوروالا، محفوظ۔
(2)
صَمَّنِيهَا النَّاسُ: لوگوں نے مجھے اس سے بہرہ کردیا، یعنی لوگوں کے شور کی وجہ سے میں اسے سن نہ سکا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1821 سے ماخوذ ہے۔