حدیث نمبر: 4278
حَدَثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب ( دائمی ) نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا عذاب : فتنوں ، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (5374), أخرجه أحمد (4/410) وصححه الحاكم (4/444)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9092)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/410، 418) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 824

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتنہ میں قتل ہونے پر مغفرت کی امید رکھے جانے کا بیان۔`
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب (دائمی) نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا عذاب: فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4278]
فوائد ومسائل:
آخرت میں اس امت کے اہلِ ایمان کے لیے ابدی عذاب نہیں ہے۔
ان کے لیئے دنیا میں پیش آنے والی انفرادی اور اجتماعی آزمائشیں آخرت کے عذاب سے کفارہ بن جا ئیں گی۔
ان شاء اللہ
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4278 سے ماخوذ ہے۔