سنن ابي داود
كتاب الفتن والملاحم— کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان
باب مَا يُرْجَى فِي الْقَتْلِ باب: فتنہ میں قتل ہونے پر مغفرت کی امید رکھے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4277
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ فِتْنَةً فَعَظَّمَ أَمْرَهَا فَقُلْنَا ، أَوْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَئِنْ أَدْرَكَتْنَا هَذِهِ لَتُهْلِكَنَّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلَّا إِنَّ بِحَسْبِكُمُ الْقَتْلُ " قَالَ : سَعِيدٌ فَرَأَيْتُ إِخْوَانِي قُتِلُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک فتنہ اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا تو ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر اس فتنہ نے ہم کو پا لیا تو ہم کو تو تباہ کر ڈالے گا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہرگز نہیں ، بس تمہارا قتل ہو جانا ہی کافی ہو گا “ ۔ سعید کہتے ہیں : میں نے اپنے بھائیوں کو ( جمل و صفین میں ) قتل ہوتے دیکھ لیا ۔