سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ باب: اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ ، قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، كُلُّ ذَلِكَ ، يَقُولُ : سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ذَلِكَ " .
´عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ` اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا : آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی “ ، اس شخص نے کہا : کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا ، انہوں نے کہا : ہاں ، ہر بار وہ یہی کہتے تھے : میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے ، پھر اس شخص نے کہا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے فرماتے سنا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: "وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی"، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے فرماتے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 427]
اس حدیث میں نماز فجر اور عصر کی خاص اہمیت کا بیان ہے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ جو ان کی پابندی کرے گا وہ باقی نمازوں کی بھی پابندی کرے گا یا اسے توفیق مل جائے گی۔
عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 488]
ان احادیث میں نماز فجر اور نماز عصر کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ ان نمازوں میں دن رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ نیز یہ اوقات انتہائی بابرکت ہیں کہ ان اوقات کی قدر کرنے والا اور ان نمازوں کا خاص اہتمام کرنے والا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور جنت کا وارث ٹھہرتا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں "نماز فجر وعصر" انتہائی عظمت کی حامل نمازیں ہیں کیونکہ ان نمازوں میں فرشتوں کے دونوں گروہ حاضر ہوتے ہیں جبکہ دیگر نمازوں میں فرشتوں کے ایک گروہ کی حاضری ہوتی ہے۔ اور احادیث میں یہ بھی وارد ہے کہ نماز فجر کے بعد رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور دن کے آخری وقت میں اعمال بلند کیے جاتے ہیں، چنانچہ جو شخص ان اوقات میں طاعت و عبادت میں مشغول ہو اس کے رزق و عمل میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ (فتح الباری: 2 / 50)