حدیث نمبر: 4263
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : ايْمُ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنِ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنِ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ ، فَصَبَرَ فَوَاهًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا ، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا ، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4263
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5405)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11542) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔`
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4263]
فوائد ومسائل:
ان تمام احادیث کا خلاصہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپس میں اختلاف اور جھگڑا ہو اور کسی ایک فریق کا حق پر نہ ہونا واضح نہ ہو تو پھر ان میں حصہ لینے سے بچنا بہتر ہوگا حتی کہ قتل ہو جانا گوارا کر لینا کسی کو قتل کرنے سے بہتر ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4263 سے ماخوذ ہے۔