حدیث نمبر: 4256
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ ، قَالَ : فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى حَرَّةٍ ، ثُمَّ لِيَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا ، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا ، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے “ عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے ، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے ، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے “ عرض کیا : جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے ( اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے ) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ ( فتنوں سے ) گلو خلاصی حاصل کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4256
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2887)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الفتن 3 (2887)، (تحفة الأشراف: 11702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/39، 48) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے " عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے " عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4256]
فوائد ومسائل:
سب سے بڑا فتنہ یہ ہو گا کہ عام لوگ بے دین ہو کر اپنی من مرضی کے طابع ہوتے ہوئے وقتی فوائد حاصل کرنے کے درپے ہونگے اور دوسروں کو بھی اس پر مجبور کریں گے۔
تو ایسے حالات میں سوائے مذکورہ بالا علاج کے کہ انسان آبادیوں سے اور فسادیوں سے دور بھاگ جائے اور کو ئی چارہ نہیں ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4256 سے ماخوذ ہے۔