سنن ابي داود
كتاب الفتن والملاحم— کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان
باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا باب: فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4250
قَالَ أَبُو دَاوُد : حُدِّثْتُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4250]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4250]
فوائد ومسائل:
یہ شائد دجال کے زمانے میں ہوگا۔
و اللہ اعلم
یہ شائد دجال کے زمانے میں ہوگا۔
و اللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4250 سے ماخوذ ہے۔