حدیث نمبر: 4247
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ بَدْرِ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَإِنْ لَمْ تَجِدْ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةً فَاهْرُبْ حَتَّى تَمُوتَ فَإِنْ تَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَتَجَ فَرَسًا لَمْ تُنْتَجْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ` ان دنوں میں اگر مسلمانوں کا کوئی خلیفہ ( حاکم ) تمہیں نہ ملے تو بھاگ کر ( جنگل میں ) چلے جاؤ یہاں تک کہ وہیں مر جاؤ ، اگر تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ ( تو بہتر ہے ایسے بے دینوں میں رہنے سے ) اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ میں نے کہا : پھر اس کے بعد کیا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کسی کی گھوڑی بچہ جننا چاہتی ہو تو وہ نہ جن سکے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے بعد قیامت بہت قریب ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4247
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (5396), صخر بن بدر تابعه نصر بن عاصم، انظر الحديث السابق (4246)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 4244، (تحفة الأشراف: 3332) (حسن ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔`
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ ان دنوں میں اگر مسلمانوں کا کوئی خلیفہ (حاکم) تمہیں نہ ملے تو بھاگ کر (جنگل میں) چلے جاؤ یہاں تک کہ وہیں مر جاؤ، اگر تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ (تو بہتر ہے ایسے بے دینوں میں رہنے سے) اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کی گھوڑی بچہ جننا چاہتی ہو تو وہ نہ جن سکے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4247]
فوائد ومسائل:
ایامِ فتنہ میں فتنہ پر داز لوگوں سے علیحدہ رہنا اور ان تحریکوں سے اپنے آپ کو جدا رکھنا اور قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو نا ہی واحد ذریعہ ِ نجات ہے اور قرآن کریم کی تعلیمات اسوۃ رسول ﷺ کو مستلزم ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4247 سے ماخوذ ہے۔