حدیث نمبر: 4246
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ ، فَقَالَ : مِنَ الْقَوْمُ ؟ قُلْنَا : بَنُو لَيْثٍ أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : فِتْنَةٌ وَشَرٌّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ ؟ قَالَ : يَا حُذَيْفَةُ تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ ؟ قَالَ : هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ فِيهَا أَوْ فِيهِمْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ ؟ قَالَ : لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نصر بن عاصم لیثی کہتے ہیں کہ` ہم بنی لیث کے کچھ لوگوں کے ساتھ یشکری کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا : ہم بنی لیث کے لوگ ہیں ہم آپ کے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پوچھنے آئے ہیں ؟ تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فتنہ اور شر ہو گا “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حذیفہ ! اللہ کی کتاب کو پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے اس کی پیروی کرو “ آپ نے یہ تین بار فرمایا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «هدنة على الدخن» ہو گا اور جماعت ہو گی جس کے دلوں میں کینہ و فساد ہو گا “ میں نے عرض کیا : «هدنة على الدخن» کا کیا مطلب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کے دل اس حالت پر نہیں واپس آئیں گے جس پر پہلے تھے ۱؎ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک ایسا اندھا اور بہرا فتنہ ہو گا ( اور اس کے قائد ) جہنم کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے ، تو اے حذیفہ ! تمہارا جنگل میں درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جانا بہتر ہو گا اس بات سے کہ تم ان میں کسی کی پیروی کرو “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی لوگوں کے دل پہلے کی طرح صاف نہیں ہوں گے ان کے دلوں میں بغض و کینہ باقی رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4246
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5395), سبيع بن خالد اليشكري البصري وثقه العجلي المعتدل وابن حبان وغيرھما فھو ثقة
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4245)، (تحفة الأشراف: 3307) (حسن) »