مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4240
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَهُ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابُهُ هَؤُلَاءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، پھر اس مقام پر آپ نے قیامت تک پیش آنے والی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے بیان نہ فرما دیا ہو ، تو جو اسے یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا ، اور وہ آپ کے ان اصحاب کو معلوم ہے ، اور جب ان میں سے کوئی چیز ظہور پذیر ہو جاتی ہے تو مجھے یاد آ جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا تھا ، جیسے کوئی کسی کے غائب ہو جانے پر اس کے چہرہ کو یاد رکھتا ہے اور دیکھتے ہی اسے پہچان لیتا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 4240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6604) صحيح مسلم (2891)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6604 | صحيح مسلم: 2891

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6604 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6604. حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی چیز نہ چھوڑی جس کو بیان نہ کیا ہو، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا لہذا جب میں کوئی فراموش کردہ چیز دیکھتا ہوں تو اس طرح اسے پہنچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص کی کوئی چیز گم ہوگئی ہو جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6604]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی واقعی بھول گئے ہیں یا بھولے بنے ہوئے ہیں۔
اللہ کی قسم! دنیا ختم ہونے تک آنے والے فتنوں کے قائدین جن کے ساتھ تین سو یا اس سے زیادہ لوگ ہوں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں چھوڑا، آپ نے ان کے نام مع ولدیت اور ان کے قبیلوں تک کے نام بتا دیے ہیں۔
(سنن أبي داود، الفتن والملاحم، حدیث: 4243)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب ان واقعات میں سے کوئی پیش آتا ہے تو مجھے وہ سب یاد آ جاتا ہے جیسے کسی کو کسی کے چلے جانے کے بعد اس کا چہرہ یاد رہتا ہے، پھر مدت بعد جب دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7263 (2891) (2)
یہ وہ فتنے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کیے ہیں اور وہ بہر صورت واقع ہو کر رہیں گے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نشاندہی کی ہے، چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’اللہ کی قسم! میرے اور قیامت کے درمیان جو فتنے رونما ہونے والے ہیں میں ان سب کو جانتا ہوں، یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر مجھے راز داری کے طور پر ان کی نشاندہی فرمائی تھی، میرے علاوہ اور کسی کو نہیں بتایا تھا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7262 (2891)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6604 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2891 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیامت برپاہونے تک کے واقعات سے آگاہ فرمایا:"اور میں نے آپ سے ان میں سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا۔ مگر میں نے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز نکالے گی؟ یعنی اہل مدینہ،مدینہ سے کیوں نکل جائیں گے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7265]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، ایک ایسا وقت آئے گا، جس میں اہل مدینہ، مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے، لیکن اس کا سبب کیا ہوگا، یہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے پوچھ نہیں سکے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2891 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔