سنن ابي داود
كتاب الخاتم— کتاب: انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ باب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4238
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ قُلِّدَتْ فِي عُنُقِهَا مِثْلَهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنایا جائے گا ، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو قیامت کے دن اس کے کان میں اسی کے ہم مثل آگ کی بالی پہنائی جائے گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔`
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنایا جائے گا، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو قیامت کے دن اس کے کان میں اسی کے ہم مثل آگ کی بالی پہنائی جائے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4238]
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنایا جائے گا، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو قیامت کے دن اس کے کان میں اسی کے ہم مثل آگ کی بالی پہنائی جائے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4238]
فوائد ومسائل:
مذکورہ دونوں روایات ضعیف ہیں، لیکن دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عورت کو اپنے گلے، کان یا ہاتھوں میں سونے کا زیور پہننا جائز ہے، اس لئے منع کی روایت ضعیف یا منسوخ ہے۔
مذکورہ دونوں روایات ضعیف ہیں، لیکن دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عورت کو اپنے گلے، کان یا ہاتھوں میں سونے کا زیور پہننا جائز ہے، اس لئے منع کی روایت ضعیف یا منسوخ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4238 سے ماخوذ ہے۔