حدیث نمبر: 4237
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ ، عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ کی بہن سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عورتوں کی جماعت ! کیا زیور بنانے کے لیے تمہیں چاندی نہیں ملتی ، سنو ! تم میں جو عورت بھی سونے کا زیور پہنے گی تو اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5140،5141), امرأة ربعي مقبولة (تقريب التهذيب: 8795) أي :مجهولة الحال،اسم أخت حذيفة بن اليمان : فاطمة / رضي اللّٰه عنھما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 39 (5140)، (تحفة الأشراف: 18043، 18386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/455، 357، 358، 369)، سنن الدارمی/الاستئذان 17 (2687) (ضعیف) » (ربعی کی اہلیہ مبہم ہیں، حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن اگر صحابیہ ہیں تو کوئی حرج نہیں ورنہ تابعیہ ہونے کی صورت میں وہ بھی مبہم ہوئیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5141