سنن ابي داود
كتاب الخاتم— کتاب: انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ باب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4236
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے محبوب کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے ، اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق ۱؎ پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے ، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے ، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے کھیلو ۔
وضاحت:
۱؎: طوق گلے میں پہننے کا زیور، اسے گلوبند اور ہنسلی بھی کہتے ہیں۔