سنن ابي داود
كتاب الخاتم— کتاب: انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي التَّخَتُّمِ فِي الْيَمِينِ أَوِ الْيَسَارِ باب: انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4228
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَدِهِ الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان۔`
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4228]
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4228]
فوائد ومسائل:
یہ ایک صحابی کا عمل ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کا عمل اُوپر بیان ہوا ہے۔
اور وہی قابلِ اتباع ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں بھی آرہا ہے۔
ممکن ہے کی نبی ﷺ کے عمل سے حضرت عبداللہ بن عمر بے خبر رہے ہوں، ورنہ وہ کبھی بھی اس کے برعکس عمل نہ کرتے۔
یہ ایک صحابی کا عمل ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کا عمل اُوپر بیان ہوا ہے۔
اور وہی قابلِ اتباع ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں بھی آرہا ہے۔
ممکن ہے کی نبی ﷺ کے عمل سے حضرت عبداللہ بن عمر بے خبر رہے ہوں، ورنہ وہ کبھی بھی اس کے برعکس عمل نہ کرتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4228 سے ماخوذ ہے۔