سنن ابي داود
كتاب الخاتم— کتاب: انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الْحَدِيدِ باب: لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهِدَايَةِ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ ، قَالَ : وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ لِلسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى شَكَّ عَاصِمٌ ، وَنَهَانِي عَنِ الْقَسِّيَّةِ وَالْمِيثَرَةِ " ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَقُلْنَا لِعَلِيٍّ : مَا الْقَسِّيَّةُ ؟ قَالَ : ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ ، أَوْ مِنْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ ، قَالَ : وَالْمِيثَرَةُ شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ .
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” کہو : اے اللہ ! مجھے ہدایت دے ، اور درستگی پر قائم رکھ ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو ، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں ( عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے ) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا ۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : «قسیہ» کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے ، ان کی دھاریوں میں ترنج ( چکوترہ ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور «میثرہ» وہ بچھونا ( بستر ) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں (عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «قسیہ» کیا ہے؟ تو انہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4225]
1) مذکورہ بالا دُعا ایک مختصر اور جامع دُعا ہے اور دعاؤں می ادنی سے اعلیٰ مراتب تک تمام معنی کو اپنے ذہن میں رکھنا مستحب ہے، یعنی دنیا کی نعمتوں کے ساتھ آخرت اور آخرت کے ساتھ دنیا کی نعمتوں کا تصور۔
2) حدیث میں فرمائی گئی ہدایت سے بعض لوگوں نے تصورِ شیخ کا جواز کشید کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی طرح جائز نہیں، بلکہ حرام ہے۔
عبادات میں تصور اللہ رب العالمین ہی کا مطلوب ہے، الا یہ کہ درود شریف پڑہتے ہوئے یا کسی کے لیئے مغفرت وغیرہ کی دعا کرتے ہوئے جو تصور آتا ہے وہ ایک الگ چیز ہے۔
3) انگشتِ شہادت یا بیچ والی انگلی میں انگوٹھی پہننا درست نہیں ہے۔
4) (قسمی) یا (قز) کی ممانعت ریشم کی وجہ سے ہے اور (میثرہ) کی ممانعت سرخ رنگ اور عجمی لوگوں کی مشابہت کی بنا پر ہے۔
ابوبردہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” علی! اللہ سے ہدایت اور میانہ روی طلب کرو “، اور آپ نے مجھے روکا کہ انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5213]
(2) ہدایت وسداد (میانہ روی) کی دعا کرنا مستحب ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کہو: «اللہم اهدني وسددني» اللہ! مجھے ہدایت دے، مجھے درست رکھ “، اور آپ نے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا شہادت کی اور بیچ کی انگلی کی طرف۔ عاصم بن کلیب نے ان میں سے صرف ایک کا تذکرہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5215]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: ” «اللہم سددني واهدني» اے اللہ مجھے درست رکھ اور ہدایت عطا کر “ اور آپ نے مجھے «میاثر» پر بیٹھنے سے منع فرمایا، «میاثر» ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے، جسے عورتیں اپنے شوہروں کے لیے پالان پر ڈالنے کے لیے بناتی تھیں۔ جیسے گلابی رنگ کی چھوردار چادریں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5378]
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہمیشہ ہدایت اور صراط مستقیم کا طلب گار ہونا چاہیے۔ ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں «اهدنا الصراط المستقيم» (الفاتحہ: 5) سے یہی مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مرد پر ریشمی کپڑا پہنا حرام ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا تلبسوا الحرير، فإن من لبسه فى الدنيا لم يلبسه فى الآخرة» ریشم کا لباس مت پہنو، اس لیے کہ جو مرد اسے دنیا میں پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔ (صحیح البخاری: 5834ـ صـحـيـح مسلم: 2069)
حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ① اس نہی کے مخاطب مسلمان مرد ہیں، کیونکہ عورتوں کو ریشمی لباس پہننے کی اجازت ہے۔ مردوں کے لیے یہ اس لیے حرام ہے کہ اس میں زیب وزینت کا پہلو ہے، جو عورتوں کا وصف خاص ہے۔
② مردوں کے لیے یہ اس لیے بھی پسندیدہ نہیں ہے کہ اس سے مرد کی مردانہ خصوصیات، شجاعت، شہامت و تہور وغیرہ متاثر ہوتی ہیں۔
③ اس میں تکبر ورعونت کا بھی اظہار ہے، اور یہ بھی نا پسندیدہ ہے۔
④ مشرکین و کفار سے مشابہت ہے۔
⑤ اس کا استعمال اس سادگی کے خلاف ہے جو اسلام ایک مسلمان کے اندر دیکھنا پسند کرتا ہے، اور جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، «الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ» بذاذہ ایمان کا حصہ ہے۔ (ســن أبـي داود: 4161) بذاذہ کا مطلب ہے کہ پر تکلف لباس قیمتی پوشاک اور آرائش وزیبائش کی بجائے سادہ اور بے تکلف رہن سہن اختیار کرنا۔ (ریاض الصالحين، مترجم: 715/1) یادر ہے کہ جس مرد کو خارش ہو وہ ریشم استعمال کر سکتا ہے۔ (صحیح البخاری: 5839، صحیح مسلم: 2067)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انگوٹھی شہادت والی اور درمیانی انگلی میں پہننا ممنوع ہے، اور چھنگلی انگلی میں پہننا مسنون ہے۔