حدیث نمبر: 4224
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ نُوحُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ ، وَجَدُّهُ مِنْ قِبَلِ أُمِهِ أَبُو ذُبَابٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَدِيدٍ مَلْوِيٌّ عَلَيْهِ فِضَّةٌ ، قَالَ : فَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِهِ ، قَالَ : وَكَانَ الْمُعَيْقِيبُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی ۔ ٍ راوی کہتے ہیں : اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (5208 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 47 (5208)، (تحفة الأشراف: 11486) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5208

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟`
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4224]
فوائد ومسائل:
لوہے کی انگوٹھی کو جس چیز سے ملمع کیا گیا وہ اسی کے حکم میں ہوگی سونا ہو یا چاندی۔
اور مردوں کے لیئے چاندی جائز ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4224 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5208 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´چاندی چڑھی لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟`
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی چڑھی ہوئی تھی اور کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں بھی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5208]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی رحمہ اللہ نے جو ترجمۃ الباب قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ اہم مسئلہ بیان کرنا ہے کہ چاندی کا خول چڑھی لوہے کی انگوٹھی پہننا شرعاً جائز ہے۔ مطلقاً لوہے کی انگوٹھی پہننے سے گریز ضروری ہے کیونکہ اسے جہنمیوں کا زیور کہا گیا ہے۔ (الموسوعة الحدیثیة، مسند أحمد:11؍69)۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل علم و فضل کی خدمت کرنا مستحب ہے، نیز آزاد آدمی سے بھی خدمت کرائی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ برضا و رغبت کرنے پر راضی ہو۔
(3) سرکاری اور اسی طرح دیگر اہم اداروں کی ایسی مہریں جن کے ساتھ خطوط و دستاویزات پر مہر لگائی جاتی ہے، ان کی حفاظت کرنا ضروری ہے تاکہ انہیں کوئی غلط استعمال نہ کرے کیونکہ اس طرح تمام دستاویزات اور خطوط وغیرہ غیر معتبر اور ناقابل اعتماد قرار پائیں گے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5208 سے ماخوذ ہے۔