سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ باب: عشاء کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ ، فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَأَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " .
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھنی چاہی تو آپ باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ( اس کے بعد تشریف لائے ) اور فرمایا : ” تم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو ، ہم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں نے نماز پڑھ لی اور اپنی خواب گاہوں میں جا کر سو رہے ، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک کہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے ، اگر مجھے کمزور کی کمزوری ، اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرتا “ ۔