حدیث نمبر: 4219
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ : لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا ، اور فرمایا : ” کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے “ پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2091)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/ اللباس 12 (2091)، سنن الترمذی/ الشمائل (101)، سنن النسائی/ الزینة من المجتبی 26 (5290)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 39 (3639)، 41 (3645)، (تحفة الأشراف: 7599) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´انگوٹھی بنانے کا بیان۔`
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا، اور فرمایا: " کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے " پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4219]
فوائد ومسائل:
اس نقش کی حثیت چونکہ سرکاری تھی، اس لیئے اس جیسے نقش کی انگوٹھی بنوانے سے روک دیا گیا۔
اس نقش کی سرکاری حیثیت کی وجہ سے ہی بعد میں اسےخلفائے ثلاثہ بھی استعمال کرتے رہے، حتی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وہ گم ہو گئی تو اُنھوں نے اسی نقش جیسی والی انگوٹھی دوبارہ بنوا ئی۔
البتہ باعث آئمہ کے نزدیک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے انگوٹھی کے گم ہونے کی روایت صحیح نہیں ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4219 سے ماخوذ ہے۔