سنن ابي داود
كتاب الترجل— کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي خِضَابِ الصُّفْرَةِ باب: پیلے رنگ کے خضاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4210
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے ، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: ورس ایک قسم کی گھاس ہے جس سے رنگتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´پیلے رنگ کے خضاب کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4210]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4210]
فوائد ومسائل:
بعض علماء نے ان احادیث کی روشنی میں ورس اور زعفران کی نہی کو تنزیہ پر محمول کیا ہے۔
بعض علماء نے ان احادیث کی روشنی میں ورس اور زعفران کی نہی کو تنزیہ پر محمول کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4210 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 117 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جوتا پہنے ہوئے وضو کرنے کا بیان۔`
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
117۔ اردو حاشیہ: ➊ ’’جوتوں میں وضو“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جوتے پہنے ہوئے ہوں اور وہ بند نہ ہوں بلکہ چپل نما ہوں جن میں وضو کیا جا سکتا ہو تو پاؤں کو دھونا ضروری ہے۔
➋ «النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ» سے مراد صاف چمڑے کے جوتے ہیں۔ چمڑے کو دبغت دے کر (رنگ کر) بالوں سے مکمل صاف کر لیا جاتا ہے، اس طرح چمڑا صاف ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جوتے خوب صورت اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
➋ «النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ» سے مراد صاف چمڑے کے جوتے ہیں۔ چمڑے کو دبغت دے کر (رنگ کر) بالوں سے مکمل صاف کر لیا جاتا ہے، اس طرح چمڑا صاف ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی ہو جاتا ہے۔ یہ جوتے خوب صورت اور آرام دہ ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 117 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5246 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ورس اور زعفران سے داڑھی پیلی کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
اردو حاشہ: (1) ”سبتی جوتے“ دباغت شدہ چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو کہتے ہیں۔ ان پر بال نہیں ہوتے۔ عرب میں بالوں سمیت چمڑے کے جوتوں کا بھی رواج تھا۔ ان کے مقابلے میں سبتی جوتوں کو قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
(2) ورس و زعفران رنگ دارخوشبو ئیں ہیں۔ ان کا استعمال مرد کے لیے جسم میں تو درست نہیں، البتہ بالوں کو رنگا جا سکتا ہے باقی رسول اللہ ﷺ کا ڈاڑھی کورنگنا تو اس کی تفصیل کےلیے دیکھیے حدیث: 5082، 5089 اور 5118۔
(2) ورس و زعفران رنگ دارخوشبو ئیں ہیں۔ ان کا استعمال مرد کے لیے جسم میں تو درست نہیں، البتہ بالوں کو رنگا جا سکتا ہے باقی رسول اللہ ﷺ کا ڈاڑھی کورنگنا تو اس کی تفصیل کےلیے دیکھیے حدیث: 5082، 5089 اور 5118۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5246 سے ماخوذ ہے۔