حدیث نمبر: 4207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبِي : أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ ، قَالَ : اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ` میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں ، آپ نے فرمایا : ” طبیب تو اللہ ہے ، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4065)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4065)، (تحفة الأشراف: 12036) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خضاب کا بیان۔`
اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے (مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4207]
فوائد ومسائل:
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کے والد کا آپ ﷺ کی کمر پر مہرِ نبوت کی طرف تھا جس کی حقیقت سے وہ اس وقت تک واقف نہیں ہوئے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4207 سے ماخوذ ہے۔