حدیث نمبر: 4201
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَقَرَأَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُعْفِي السِّبَالَ إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الِاسْتِحْدَادُ حَلْقُ الْعَانَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو الزبير عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2789) (ضعیف الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مونچھیں کتروانے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4201]
فوائد ومسائل:
یعنی حج اور عمرہ میں ہم کچھ کاٹ لیا کرتے تھے، اس کے علاوہ کسی اور موقع پر ہم ایسا نہیں کرتے تھے، لیکن یہ روایت ہی صحیح نہیں ہے۔
اس لیئے حج اور عمرہ کے مو قع پر بھی داڑھی کا کاٹنا جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4201 سے ماخوذ ہے۔