حدیث نمبر: 4195
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا : ” یا تو پورا مونڈ دو ، یا پورا چھوڑے رکھو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, رواه مسلم (2120) مختصرًا ولم يذكر اللفظ
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5051

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چوٹی (زلف) رکھنا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4195]
فوائد ومسائل:
مسلمانوں کو مشرکین اور کفار کی تقلید و نقالی سے احتراز کرنا واجب ہے۔
بچوں کا معاملہ ان کے والدین اور سرپرستوں سے متعلق ہے۔
ان پر لازم ہے کہ بچوں کے لباس اور حجامت میں اسلامی ثقافت کو ملحوظِ خاطر رکھا کریں۔
اور یہ معا ملہ جب بچوں میں ناجائز ہے تو بڑوں کے لیئے بطریقِ اولیٰ ناجائز ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4195 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5051 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سر منڈانے کی اجازت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: یا تو پورا سر مونڈو، یا پھر پورے سر پر بال رکھو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5051]
اردو حاشہ: کافر لوگ سر مونڈتے وقت کچھ بال کسی بت وغیرہ کے نام پر رکھ چھوڑتے تھے جس طرح آج کل بھی بعض جاہل لوگ کسی پیر کے نام کی بودی رکھتے ہیں، حالانکہ غیراللہ کی ایسی تعظیم حرام ہے، لہذا آپ نے منع فرمایا۔ ویسے بھی یہ چیز نامناسب لگتی ہے۔ آدمی بھدا لگتا ہے اور یہ فطرت انسانیہ کے خلاف ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سر کے ہر حصے سے ایک جیسے یا ایک جتنے بال کٹوائے جائیں بلکہ اگر کانوں کے قریب سے زیادہ ترشوالیے جائیں تاکہ کانوں میں نہ پڑیں اور سر کے اوپر سے کم کٹوالیے جائیں تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ دیکھنے میں متناسب ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5051 سے ماخوذ ہے۔