حدیث نمبر: 4189
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَفْرُقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَعْتُ الْفَرْقَ مِنْ يَافُوخِهِ وَأُرْسِلُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگ نکالنی چاہتی تو سر کے بیچ سے نکالتی ، اور پیشانی کے بالوں کو دونوں آنکھوں کے بیچ کی سیدھ سے آدھا ایک طرف اور آدھا دوسری طرف لٹکا دیا کرتی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4447)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90، 275) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بال میں مانگ نکالنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگ نکالنی چاہتی تو سر کے بیچ سے نکالتی، اور پیشانی کے بالوں کو دونوں آنکھوں کے بیچ کی سیدھ سے آدھا ایک طرف اور آدھا دوسری طرف لٹکا دیا کرتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4189]
فوائد ومسائل:
ٹیڑھی مانگ نکالنا اسوہ رسولﷺ کے خلاف اور مشرکین اور کفار کی موافقت اور مشابہت ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس بدعادت سے باز رہنا چاہیئے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا تو وہ اُنہی میں سے ہو گا۔
(سنن أبی داود، اللباس، حدیث:4031)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4189 سے ماخوذ ہے۔