حدیث نمبر: 4187
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «وفرہ» ۱؎ سے بڑے اور «جمہ» ۲؎ سے چھوٹے تھے ۔  

وضاحت:
۱؎: کان تک کے بال کو «وفرہ» کہتے ہیں۔
۲؎: اور شانہ تک کے بال کو «جمہ» کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4187
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (1755 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/اللباس 21 (1755)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3635)، (تحفة الأشراف: 17019) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3635

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بالوں کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «وفرہ» ۱؎ سے بڑے اور «جمہ» ۲؎ سے چھوٹے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4187]
فوائد ومسائل:
1) سر کے بال جب کانوں کی لوؤں تک آئیں تو (وَفُرَة) اور جب کندھوں تک پہنچیں تو(جمُة) کہلاتے ہیں۔
اور ان کے درمیان کو (لِمَة) سے تعبیر کرتے ہیں
2) مردوں کو مذکورہ بالا مختلف اندازوں میں بال رکھنا جائز ہے،بشرطیکہ مقصد نبی ﷺ کا اتباع ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4187 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3635 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کان کی لو سے بال نیچے رکھنے اور چوٹیاں رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے ہوتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3635]
اردو حاشہ:
جمہ سے مراد کندھوں تک پہنچنے والے بال اور وفرہ سے مراد کانوں تک پہنچنے والے بال ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3635 سے ماخوذ ہے۔